نئی دہلی،20؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے آر ایس ایس اور بی جے پی نے اپنے ہندوتو ایجنڈے پر کام شروع کر دیا ہے۔کیرانہ کا معاملہ اچھالنے کے بعد بی جے پی کے دو لیڈر رام شنکر کٹھیریا اور یوگی آدتیہ ناتھ اپنے اشتعال انگیز بیان کو لے کرایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔فرو غ انسانی وسائل کے وزیر مملکت کٹھیریا نے جہاں تعلیم کے بھگوا کرن پر مرکوز بیان دیا ہے، وہیں گورکھپور سے ممبر پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے رام مندر کی تعمیر کو لے کرانتہائی متنازعہ اور اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے بھی کچھ اسی طرح کا راگ الاپتے ہوئے کسی جگہ کا نام لیے بغیر یوپی میں ہندوؤں کی مبینہ نقل مکانی کو لے کر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یوپی انتخابات میں ووٹوں کے پولرائزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے ایسے بیانات دئیے جا رہے ہیں۔مرکزی وزیر را م شنکر کٹھیریا نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ ا ب تعلیم کا بھی بھگوا کرن ہو گا۔ملک میں بھگوا کرن ہو گا۔جو ملک کے لیے اچھا ہوگا وہ ضرور ہوگا، چاہے وہ بھگوا کرن ہو یا سنگھواد یا کچھ بھی ہو۔تاہم وہ اس پر بعد میں صفائی دیتے بھی نظر آئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ جو ملک کے مفاد میں ہو گا، وہ کریں گے ۔چاہے بھگوا رنگ ہو یا کوئی اور، ملک کے مفاد میں جو ہو گا اسے لاگو کریں گے۔بھگوا رنگ دیکھنے کا نظریہ تبدیل کرنا ہوگا۔وہیں بی جے پی کے فائر برانڈلیڈر اور ممبر پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ کون سی طاقت ہے جو آپ کو رام مندر بنانے سے روک سکتی ہے۔جب ڈھانچہ (بابری مسجد )گرانے سے کوئی نہیں روک پایا تو مندر بنانے سے کون روک سکے گا، اب تومندر کی تعمیر ہونی ہی ہے۔وہیں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ہندوؤں کی مبینہ نقل مکانی کا مسئلہ اٹھاتے نظر آئے۔انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کی نقل مکانی کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے یہ بیان کیرانہ کا نام لئے بغیر دیا۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، پاکستان نہیں، ہندوستان میں بھی ہندوؤں کی نقل مکانی ہو رہی ہے۔نقل مکانی کی خبریں تکلیف دہ اور پریشان کرنے والی ہیں۔حکومت، لوگوں کے ذہن سے مایوسی دور کرے۔شیواجی نے ہندوؤں کو متحد کیا اور شیواجی کی تقلید کرنے کی ضرورت ہے۔